​ڈاکٹر محمد نجیب اللہ شہید ۔۔۔ فرزند افغانستان

تحریر : زلمے خٹک  

نجیب اللہ شہید, بیسویں صدی میں افغان عوام کا ھردلعزیز رہنما، صدر مملکت اور ایشیا کا عظیم روشن خیال مفکر، بااصول سیاستکار اور باتدبیر عامل مدبر تھا جو آج بھی عالمی حالات اور افغانستان کے مستقبل پر مبنی واضح پیشن گوئیوں کی وجہ سےافغان عوام کے دل و دماغ میں پوری قوت سے زندہ و تابندہ ہے. 

ڈاکٹر نجیب شہید 1947 میں پیدا ھوئے, وہ پشتون قبیلہ غلجئی کے احمد زئی شاخ سے تعلق رکھتے تھے. انہوں نے ابتدائی تعلیم حبیبیہ سکول کابل اور سینٹ جوزف سکول بارہ مولا کشمیر سے حاصل کیا اور کابل یونیورسٹی سے طب کی ڈگری حاصل کی.

ڈاکٹر نجیب شہید نے 1965 میں پرچم (جو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی PDPA کا ایک بازو تھا) میں شامل ھو کر اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا, 1977 میں پارٹی کے مرکزی کمیٹی کا رکن منتحب ھوا, 1978 میں جب PDPA  نے افغانستان میں عنان اقتدار سنبھالا تب ڈاکٹر نجیب انقلابی کونسل کا ایک بااثر ممبر تھا, 1980 میں خاد (KHAD) کا سربراہ مقرر ھوا اور 1981 میں پولٹ بیورو کا ممبر منتحب کیا گیا, 1986 میں پارٹی کے 18 ویں اجلاس میں سیکرٹری جنرل (ببرک کارمل کے جانشین) بنا دیے گئے, اسی سال قومی مفاہمتی کمیشن بنائی جس نے فوری طور پر 6 مہینوں کے لئے جنگ بندی کا اعلان کیا اور متحارب فریقوں سے بات چیت کا آغاز کیا. گو کہ یہ بات چیت ناکام ہوگئے مگر اس کس نتیجے میں بہت سارے شہری باشندے سرکاری ملیشیا میں بھرتی ہوئے, جس کی وجہ سے انکی حکومت کو قدرے استحکام ملا. اسی سال ستمبر کے مہینے میں نیا ملکی آئین تحریری شکل میں بحث و تمحیث کے لئے قوم کے سامنے رکھا جو 29 نومبر 1987 کو باقاعدہ طور نافذ کیا گیا. نئے آئین میں ملکی سربراہ کے اختیارات کم کرکے ان پر مختلف قدغنیں لگا دی گئیں، اسکی ویٹو پاور یکسر ختم کردی گئی، اس آئین کا ارتکاز شراکت اقتدار تھا. 

1987 میں مقامی حکومتوں کے لئے انتحابات کرائے گئے، جون 1988 میں انقلابی کونسل کو قومی اسمبلی میں بدل دیا گیا اور اسی سال نئی قومی اسمبلی کے لئے انتحابات کا انعقاد بھی کیا گیا، ان انتحابات کے نتیجے میں PDPA نے نیشنل فرنٹ اور بعض دوسری بائیں بازو کی پارٹیوں کے اشتراک سے ایک مخلوط حکومت بنائی، قومی اسمبلی میں 50 اور سینیٹ میں کچھ نشستیں متحارب گروپوں کے لئے خالی رکھی گئیں, 14 اپریل کو حکومت افغان اور پاکستان کے درمیان جینیوا میں ایک امن معاہدہ پر دستخط ہوئے جس کے گارنٹر اقوام متحدہ اور سویت یونین تھے، اس معاہدے کے تحت 15 فروری 1989 تک روسی افواج نے افغانستان سے مکمل انخلا کرنی تھی مگر روسی انخلا کے ساتھ ھی ایک نئے زوردار جنگ کا آغاز ھوا ؛ 1992 تک سرکاری افواج نے ڈٹ کر متحارب گروپوں کا مقابلہ کیا، اسی سال کے مارچ میں ڈاکٹر نجیب نے اقوام متحدہ کے نگرانی میں قومی صلاح کار حکومت کے خاطر رضاکارانہ طور حکومتی استعفی کا اعلان کیا مگر متحارب گروہ لڑائی سے باز نہیں آئے حتی کہ ڈاکٹر نجیب نے 1996 میں ازخود یکطرفہ رضاکارانہ استعفی دیا اور اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر میں قیام شروع کیا، تب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا، احمد شاہ مسعود نے ڈاکٹر نجیب کو بہ اصرار پناہ دینے کی دعوت دی مگر ڈاکٹر نجیب نے یکسر انکار کیا، طالبان موقعہ پاتے ہی اقوام متحدہ کے دفتر پر چڑھ دوڑے، ڈاکٹر نجیب اور اسکے بھائی احمد زئی کو بڑی بیدردی سے قتل کیا (26 ستمبر 1996) اور انکے لاشوں کی بیحرمتی کی اور چوراھے پر لٹکا دیئے گئے، بعد میں ان کی لاشیں پکتیا منتقل کی گئیں جہاں ان کے عزیز و اقارب نے ان کو باعزت طور دفنایا-
                

Advertisements